Horror
all age range
2000 to 5000 words
Urdu
Story Content
پنجاب کے ایک چھوٹے سے شہر، گوجرانوالہ میں، علینہ نامی ایک نوجوان لڑکی رہتی تھی۔ علینہ ایک خاموش طبع لڑکی تھی، جس کی زندگی پانچ سال پہلے اس وقت بدل گئی جب اس کے والد، جنید، ایک حادثے میں چل بسے۔ جنید ایک انجینئر تھے اور ایک قریبی ڈیم سائٹ پر کام کرتے ہوئے ایک غیر متوقع حادثے کا شکار ہوگئے۔
والد کی موت کے بعد، علینہ اور اس کی ماں صوفیہ کی زندگی یکسر بدل گئی۔ صوفیہ ایک اسکول ٹیچر تھیں اور جنید کی موت کے بعد گھر کی تمام ذمہ داری ان پر آ گئی۔ علینہ نے محسوس کیا کہ ماں نے خود کو گھر اور اسکول تک محدود کر لیا ہے اور ہر وقت ایک انجانے خوف میں مبتلا رہتی ہے۔
علینہ کو اپنے والد سے بہت محبت تھی۔ وہ اکثر ان کی تصویروں کو دیکھتی اور ان سے باتیں کرتی۔ وہ ان کے چھوڑے ہوئے پرانے کوٹ کو گلے لگا کر سوتی تھی، جس میں ابھی تک ان کی مہک بسی ہوئی تھی۔ اسے وہ دن بھی یاد تھے جب جنید اسے سائنس کے نئے تجربات سکھاتے اور تاروں بھری راتوں میں ستاروں کے نام بتاتے۔
ایک رات، علینہ اپنے والد کی پرانی چیزیں دیکھ رہی تھی کہ اس کا فون بج اٹھا۔ اسکرین پر اس کے والد کا نمبر دیکھ کر وہ چونک گئی۔ اس کا دل زور سے دھڑکنے لگا۔
"یہ کیسے ممکن ہے؟" اس نے سوچا۔ جنید کو مرے ہوئے تو پانچ سال ہو چکے تھے۔ پھر یہ کس کا فون ہے؟
ہچکچاتے ہوئے، اس نے کال اٹھائی۔ دوسری طرف صرف سانسوں کی آواز تھی۔ بھاری، بے ترتیب سانسیں۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی بہت مشکل سے سانس لے رہا ہو۔
پھر، سانسوں کے درمیان، اس نے ایک سرگوشی سنی۔ "علینہ…"
یہ اس کے والد کی آواز تھی؟ وہ مکمل طور پر مبہوت ہو گئی۔ اس کا جسم پسینے سے شرابور ہو گیا۔ اس نے فورا فون بند کر دیا۔ اس کا دل شدت سے دھڑک رہا تھا۔ وہ ڈر کے مارے کانپ رہی تھی۔
اس نے فوراً اپنی ماں کو بتایا۔ صوفیہ نے پہلے تو اسے تسلی دینے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ کوئی غلط فہمی ہو گی۔ لیکن علینہ کے اصرار پر اس نے کال ریکارڈنگ سنی۔
صوفیہ کی آنکھوں میں بھی خوف کی لہر دوڑ گئی۔ وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے فوری طور پر فون کمپنی سے رابطہ کیا۔
کمپنی کے نمائندوں نے ریکارڈ چیک کیا اور بتایا کہ یہ نمبر پچھلے پانچ سالوں سے غیر فعال ہے۔ اس نمبر سے کوئی کال نہیں کی گئی۔ ان کے پاس اس بات کا کوئی ریکارڈ نہیں تھا کہ اس نمبر سے علینہ کو کال کی گئی ہے۔
علینہ اور صوفیہ حیران رہ گئیں۔ اگر یہ نمبر بند ہے، تو یہ کال کہاں سے آ رہی تھی؟ اور یہ اس کے والد کی آواز کیسے ہو سکتی ہے؟
اگلے ہفتے، پھر وہی ہوا۔ رات کے ٹھیک بارہ بجے، علینہ کو اپنے والد کے نمبر سے کال آئی۔ وہی بھاری سانسیں، وہی سرگوشی: "علینہ…"
علینہ نے کال ریکارڈ کر لی اور دوبارہ فون کمپنی کو دکھائی۔ انہوں نے دوبارہ چیک کیا، اور نتیجہ وہی نکلا۔ نمبر اب بھی غیر فعال تھا۔
خوف اور تجسس نے علینہ کو گھیر لیا۔ وہ اس راز سے پردہ اٹھانا چاہتی تھی۔ اسے یقین تھا کہ یہ کوئی مافوق الفطرت معاملہ ہے۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خود اس کی تحقیق کرے گی۔
علینہ نے جنید کے پرانے دوستوں اور ساتھیوں سے ملنا شروع کیا۔ وہ اس حادثے کے بارے میں مزید جاننا چاہتی تھی جس میں اس کے والد کی موت ہوئی تھی۔
اسے معلوم ہوا کہ جنید جس ڈیم سائٹ پر کام کر رہے تھے، وہاں پہلے بھی کئی حادثات ہو چکے تھے۔ مقامی لوگ اس جگہ کو منحوس سمجھتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کسی آسیب کا سایہ ہے۔
علینہ نے ان کہانیوں پر یقین نہیں کیا۔ وہ سائنس پر یقین رکھتی تھی۔ لیکن پھر بھی، اس کے دل میں ایک ڈر بیٹھ گیا تھا۔
ایک دن، وہ ڈیم سائٹ پر گئی۔ یہ ایک ویران جگہ تھی۔ چاروں طرف سکوت طاری تھا۔ تیز ہوا چل رہی تھی اور ڈیم کے پانی میں عجیب سی لہریں اٹھ رہی تھیں۔
علینہ اس جگہ پر گئی جہاں اس کے والد کا حادثہ ہوا تھا۔ وہاں زمین پر ابھی بھی خون کے دھبے موجود تھے۔ اس نے ان دھبوں کو چھوا۔ ایک سرد لہر اس کے جسم میں دوڑ گئی۔
اس نے محسوس کیا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ گھوم کر دیکھنے لگی۔ لیکن وہاں کوئی نہیں تھا۔
اسے پھر وہی آواز سنائی دی۔ وہ سانسوں کی آواز۔
وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔ اس نے ارد گرد دیکھا۔ وہاں صرف اندھیرا تھا۔ گہرا، گھنا اندھیرا۔ ایسا اندھیرا جو زندہ محسوس ہوتا تھا۔
اندھیرا اس کی طرف بڑھنے لگا۔ وہ بھاگنے لگی۔ لیکن اندھیرا اس کا پیچھا کر رہا تھا۔
وہ اس وقت تک بھاگتی رہی جب تک وہ ڈیم سائٹ سے باہر نہیں نکل گئی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کی سانس پھول رہی ہے۔ وہ خوف سے کانپ رہی تھی۔
وہ جان چکی تھی کہ یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے۔ یہ اندھیرا اس کے والد کی موت کا ذمہ دار تھا۔ اور اب یہ اسے بھی نہیں چھوڑے گا۔
اس رات، علینہ کو پھر کال آئی۔ وہی سانسیں، وہی سرگوشی: "علینہ… اب تم بھی نہیں بچو گی۔"
علینہ نے ہار نہیں مانی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اس اندھیرے سے لڑے گی۔ وہ اپنے والد کی موت کا بدلہ لے گی۔
اس نے اس آسیب کے بارے میں معلومات جمع کرنا شروع کیں۔ وہ جانتی تھی کہ یہ کوئی عام بھوت پریت نہیں ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز ہے جو اندھیرے سے جڑی ہوئی ہے۔
اسے ایک پرانی کتاب ملی، جس میں ایسے آسیبوں کے بارے میں لکھا تھا۔ اسے پتہ چلا کہ یہ آسیب ان لوگوں کی روحیں ہیں جو کسی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے اور ان کی روحوں کو سکون نہیں ملا تھا۔
وہ کتاب میں لکھی باتوں پر عمل کرنے لگی اور ایک رات وہ اسی ڈیم سائٹ پر واپس چلی گئی، ایک لالٹین اس کے ہاتھ میں تھی، جو ایک امید کی کرن کی طرح تھی۔ وہ اپنے والد کی روح کو آزاد کرانے کے لیے آخری بار کوشش کرنا چاہتی تھی۔ اس نے ان کی پسندیدہ نظمیں پڑھیں، ان کے قصے سنائے اور ان سے معافی مانگی۔
لیکن اندھیرا واپس آیا۔ اس نے اس کی لالٹین بجھا دی۔ علینہ چیخی اور گر پڑی۔
صبح، علینہ کی لاش ملی۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں، اور اس کے چہرے پر خوف کے آثار تھے۔ پولیس نے اس کی موت کو ایک حادثہ قرار دیا۔
لیکن صوفیہ جانتی تھی کہ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ یہ اندھیرا تھا۔ یہ وہ اندھیرا تھا جو اس کے شوہر کو لے گیا تھا، اور اب اس نے اس کی بیٹی کو بھی نہیں بخشا۔ وہ اب اس ڈر میں مبتلا رہتی ہے کہ اگلا نشانہ وہ خود ہو سکتی ہے۔
اور آج بھی، گوجرانوالہ کے لوگ ڈیم سائٹ کے بارے میں سرگوشیاں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہاں اندھیرا زندہ ہے، اور وہ ان لوگوں کی روحوں کو نگل جاتا ہے جو اس کے قریب جاتے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں کہ رات کے بارہ بجے، آپ کو وہاں سانسوں کی آواز سنائی دے سکتی ہے، جو کسی کو اس کی آخری منزل تک لے جاتی ہے۔ علینہ کی داستان گوجرانوالہ کے لوگوں کے دلوں میں خوف کی ایک لکیر بن کر رہ گئی ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ گہری ہوتی چلی جاتی ہے۔